نئی دہلی، 18؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )اروناچل پردیش پر سپریم کورٹ کے فیصلے، کشمیر کے حالات ، مہنگائی جیسے مسائل پر پارلیمنٹ میں کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں کی کی طرف سے حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی کے درمیان حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ مانسون سیشن بامعنی اور مثبت رہے گا اور وہ ایوان میں سبھی مسائل پر اصول وضوابط کے تحت بحث کرانے کو تیار ہے۔پارلیمانی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت کا رخ کبھی بھی اڑیل نہیں رہا اور ہم قومی مفاد سے وابستہ سبھی مسائل پر بات چیت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی وزراء ، ارکان پارلیمنٹ وغیرہ سے واضح کر چکے ہیں کہ اقلیتوں، غریبوں، قومی مفادات ، نوجوان کوبا اختیار بنانے، کمزور طبقوں سے وابستہ موضوعات پر توجہ دینا چاہیے ۔نقوی نے کہاکہ امید کرتے ہیں کہ مانسون سیشن بامعنی اور مثبت رہے گا اور حکومت ایوان میں تمام مسائل پر اصول وضوا بط کے تحت بحث کرانے کو تیار ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ ایوان میں بحث کے ساتھ قانون سازی کے کام کو بھی آگے بڑھایا جانا چاہیے ۔ہم تمام مسائل پر قواعد و ضوابط کے تحت بحث کرنے کو تیار ہیں۔پارلیمنٹ میں زیر التواء کاموں کو پورا کیا جانا چاہیے ۔امید ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔اس سے پہلے کل جماعتی میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار کہہ چکے ہیں کہ حکومت جی ایس ٹی بل منظور کرانے کے لیے سبھی پارٹیوں کا تعاون چاہتی ہے۔اس بارے میں سبھی پارٹیوں کے ساتھ صلاح مشورہ کیا جا رہا ہے۔حکومت کے قانون سازی کے کام کی فہرست میں 16بل شامل ہیں، جنہیں سیشن کے دوران پیش کیا جائے گا۔ان میں آرڈیننس کی جگہ لینے والے تین بل شامل ہیں۔مانسون سیشن کے لیے حکومت کی طرف سے مجوزہ قانون سازی کام مندرجہ ذیل ہے، اس میں پیش کئے جانے، غور کئے جانے اور منظور کئے جانے کے لیے بلوں میں(1)انڈین میڈیکل کونسل ترمیمی آرڈیننس- 2016ایک آرڈیننس کی جگہ، (2)ڈینٹسٹ ترمیمی آرڈیننس - 2016،ایک آرڈیننس کی جگہ۔